News Image
News Image 1

Islamabad: Oct 15, 2018: Mr. MA Aiguo, Vice Minister for Agriculture and Rural Affairs, China has called on Makhdum Khusro Bakhtyar, the Minister for Planning, Development & Reform (PD&R) here on Monday.
Secretary Planning, Zafar Hassan, Project Director CPEC, Hassan Daud and officials from line ministries were present on the occasion.
Makhdum Khusro Bakhtyar highlighted that Pakistan’s agriculture sector employs 45% of manpower, contributes about 24 % in GDP, provides livelihood to 64 % of the country’s rural population and share 20% in total exports.
Minister PD&R identified that Pak-China agricultural cooperation has to focus on the vertical increase in productivity of existing crops, transfer of knowledge and technologies, seed and plant protection as well disease control, value addition and marketing of agri-products including dairy, livestock, and fisheries. The mutual cooperation should cover the whole basket of agri-sectors, he added.
Makhdum Khusro Bakhtyar further said that there rest a massive potential to develop Pakistan agri-sector and achieve a win-win situation. He pointed out that joint ventures, value addition, cold chain management for fruits and vegetables, marketing and branding would help Pakistan to overcome the past weaknesses and increase its agri-export to China and other nations of the world.
Minister further stressed that both sides should work closely and identify areas of future cooperation.
Mr. MA Aiguo said that agricultural cooperation would set new and important direction that should focus on areas as well as the level of cooperation and finalization of specific plans. He further said that China is ready to share its expertise and successful agriculture models with Pakistan.
 Both sides agreed to broaden agro-cooperation by adopting a comprehensive approach to fast track communication and implementation to tap potentials of the most important agriculture sector in Pakistan.

اسلام آباد، 15اکتوبر، 2018 چین کے نائب وزیر برائے زراعت ما آئے گو نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات مخدوم خسرو بختیار سے سوموار کو ملاقات کی ہے، ملاقات میںسیکرٹری پلاننگ ظفر حسن، پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک حسان داود، اور دیگر وزارتوں کے حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ زراعت کا شعبے سے پاکستان کے 45 فیصد افرادی قوت وابستہ ہے، یہ شعبہ جی ڈی پی کا 24 فیصد جبکہ برآمدات میں اس کا حصہ 20 فیصد ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک چین زرعی تعاون کے تحت موجودہ فصلوں کی پیداوار بڑھانے، تجربے اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ، بیج و پودوں کی حفاظت و بیماریوں پر قابو پانے جیسے شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ مختلف پراڈکٹس کی ویلیو ایڈیشن، ڈیری، لائیو سٹاک اور فشریز میں مارکیٹنگ پر توجہ دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہے جس کی بدولت معاشی میدان میں کامیابی کا حصول ممکن ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک چین زرعی تعاون کے تحت جائنٹ ونچرز، ویلیو ایڈیشن، سبزیو اور پھلوں کیلئے کولڈ چین، مارکیٹنگ و برانڈنگ کیلئے کوششیں کی جائے گی تاکہ ماضی کی کمزوریوں کو دور کرکے چین و دنیا دیگر ممالک کیساتھ برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جائے، انہوں نے زور دیا کہ فریقین کو مل کر مستقبل کے تعاون کیلےت مختلف شعبوں کی شناخت کرنی چاہئے، اس موقع پر چینی نائب وزیر نے کہا کہ زرعی تعاون پاک چین تعلقات میں ایک نیا اور اہم شعبہ ہوگاجس کے ترقی کیلئے منصوبہ بندی کو حتمی شکل دینی ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کیساتھ اپنے تجربات و زرعی شعبے کے کامیاب ماڈلز فراہم کرنے کیلئے تیارہے، فریقین نے اس موقع پر زرعی تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے ایک جامع طریقہ کار اختیار کرنے پر اتفاق کیا تاکہ پاکستان کے زرعی شعبے میں موجود مواقعوں سے استفادہ کیا جاسکے۔