News Image
News Image 1
News Image 2

Islamabad, July 11, 2017: Federal Minister for Planning, Development & Reform, Ahsan Iqbal has said that development of special economic zones is the most important phase of China Pakistan Economic Corridor (CPEC) which would prove as a milestone in relocation of Chinese industries and flourishing our local enterprises.
He expressed these view while speaking to a high level 60-members Chinese delegation at Planning Commission here on Tuesday. The delegation led by Li Xuedong, Deputy Director General, Department of International Affairs, National Development and Reform Commission (NDRC) of the People’s Republic of China, comprises of senior officials from NDRC, National Railway Administration, Chinese investors, and representatives of China EXIM Bank and China Development Bank. 
Speaking on the occasion, Federal Minister Ahsan Iqbal said that One Belt One Road Vision has connected Europe, Asia and Africa. “CPEC, the flagship project of Belt and Road Initiative is helping to improve infrastructure and overcome power outages in the country, thus removing the main two bottlenecks, faced by Pakistan’s economy” Minister added. He said that the industrial cooperation between the all-weather friends, China and Pakistan, would help relocate Chinese industries, creating thousands of job opportunities, transfer of knowledge and expertise.
Federal Minister said completion of CPEC first mega coal power plant at Sahiwal has set a new world record in fastest implementation of power project. “Experts from the whole world are surprised by the pace of work on CPEC projects” he added. 
He said the development of Gwadar is top priority of the government. “Construction of New Gwadar Airport and East Bay Expressway, the two significant projects, would ensure development of this port city”. Minister further vowed to fast track implementation of hospital, technical institute and water supply project at Gwadar.
Ahsan Iqbal highlighted the need of speedy completion of Gwadar city master plan for planned development of this international town, besides establishing linkages of Gwadar University with any reputed institute of China to impart knowledge in marine and maritime sectors. 
The Minister for Planning further informed that steps are underway to include Higher Education Commission’s initiative of linking 50 top local universities with Chinese universities. “This project would help in transfer of knowledge and experiences in different sectors, helping Pakistan to develop its academic curriculum on modern line to meet international standards” he added. 
Minister further told Pakistan’s Railway Main Line-1 from Karachi to Peshawar up gradation project is likely to commence this year. “This mega project would support to build and upgrade this backbone of transport infrastructure in Pakistan” he added.
Minister further appreciated Chinese Government steps for signing CPEC long term. He said that long term plan of CPEC would identify areas of cooperation between the two countries till 2030.
Ahsan Iqbal said that the project started from MoU in 2013, turns as a biggest and flagship project of the world, wherein Pakistan has succeeded in implementation of infrastructure, energy and Gwadar related projects with the support of Chinese side. 
Mr. Li Xuedong Chinese told that basic aim of the visit is to discuss industrial cooperation, implementation of Gwadar projects and Pakistan Railway's Up- gradation of Main Line-1 under China Pakistan Economic Corridor (CPEC). He said that every possible effort will be made to ensure timely completion of all the CPEC projects. 
He appreciated Pakistani government particularly role and special interest of Federal Minister Ahsan Iqbal for speedy execution of CPEC projects.
Later on, Pakistan side led by Federal Secretary of Planning, Shoaib Ahmed Siddiqui and Chinese side hold a meeting at Ministry of Planning to review progress on CPEC projects and preparations for 7th Joint Cooperation Committee.
Mr. Siddiqui said that both governments have made a conscious effort to focus on expanding the economic dimension of the relationship and bring it up at par with the excellent cooperation the two countries enjoy at the strategic and political level. He further said that CPEC entails greater connectivity and trade linkages between Pakistan and China through a network of road, rail, fiber optic cable, energy pipelines, industrial clusters and SEZs. He further informed that all the political parties and provincial governments have openly expressed its support to this mega project which would surely help a lot to CPEC. He proposed to review decision of 6th Joint Cooperation Committee and ensure joint working groups meeting to finalize agenda for 7th JCC. Project Director CPEC Hassan Daud Butt has also briefed the participants about progress on CPEC projects.  
During their four day visit, the Chinese delegation will hold meetings with Pakistani leaders, business community and review the economic zones. The provincial governments will also brief the delegates about their SEZs and their investment plans.


News Image 3

اسلام آباد،  11جولائی 2017: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ صنعتی تعاون کے آغاز کیساتھ سی پیک انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، پاک چین صنعتی تعاون، چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی اور مقامی صنعتوں کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کواسلام آباد میں چین کے اعلی سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔ 

سی پیک کے تحت جاری صنعتی تعاون، گودار پراجیکٹس، پاکستان ریلوے مین لائن ون اپ گریڈیشن و دیگرمنصوبوں کاجائزہ لینے کیلئے چین کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان پہنچ گیاہے، 60رکنی چینی وفد میں نیشنل ڈیویلپمنٹ ریفارمز کمیشن، نیشنل ریلوے ایڈمنشٹریشن، سرمایہ کار، ایگزم بنک اور چائینہ ترقیاتی بنک کے سنیئر اہلکار اور نمائندگان شامل ہیں۔ 

وفاقی وزیر احسن اقبال نے پلاننگ کمیشن اسلام آباد میں وفد سےملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ وژن سے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے ملک قریب آئینگے، اس منصوبے کے سب سے اہم پراجیکٹ سی پیک کی بدولت پاکستان میں صنعتی تعاون کے راہ میں حائل بجلی کی کمی اور اور کمزور انفرا سٹرکچر جیسی روکاوٹیں ختم ہو رہی ہیں، ان روکاٹوں کے خاتمے کیساتھ سی پیک صنعتی تعاون کے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک چین صنعتی تعاون، چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی اور مقامی صنعتوں کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، صنعتی تعاون سے پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مہارت اور تجربہ ملے گا۔ 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت ساہیوال کول پاور منصوبے کی تیز ترین تکمیل تعاون کی درخشندہ مثال اور نیا ریکارڈ ہے، جسے دنیا انتہائی حیرانگی سے دیکھ رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر کے شعبے میں جاری منصوبوں میں گوادر کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے،ان کا کہنا تھا کہ گوادرایسٹ بے ایکسپریس وے اور نیو گوادر ائر پورٹ سی پیک کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،گوادر ہسپتال، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور آبنوشی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں،
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گوادر کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنانے کے لئے گوادر ماسٹر پلان جلد مکمل کیا جائے اورگوادر یونیورسٹی کے چین کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی سے الحاق کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ، احسن اقبال نے مزید کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی زیر نگرانی 50، 50 پاکستانی اور چینی جامعات کے الحاق کو سی پیک فریم ورک میں شامل کرنے پر کام جاری ہے، مختلف شعبوں میں چینی تجربات، مہارت اور علم سے استفادے کیلئے اقدامات پاکستان کے تعلیمی نظام اور نصاب کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہونگے.

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ کراچی تا پشاور ریلوے ایم ایل ون پراجیکٹ منصوبے پر جلد از جلد کام شروع ہوجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک چین طویل المدتی منصوبے پر فوری دستخط کیلئے چینی حکام کے اقدامات لائق تحسین ہیں،اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے 2030 تک پاک چین تعاون کے خدو حال واضح ہوجائیں گے۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ 2013میں ایک ایم او یو سے شروع ہونے والا سی پیک منصوبہ آج دنیا بھر کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ہو چکا ہے، جس میں چین کے تعاون سے انفراسٹرکچر ، توانائی و گوادر کی ترقی کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیابی حاصل ہوئی، اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چینی وفد کے سربراہ لی شیڈونگ کا کہنا تھا کہ
چینی وفد کا مقصد سی پیک کے تحت جاری صنعتی تعاون، گودار کے ترقیاتی منصوبوں اور پاکستان ریلوے مین لائن ون اپ گریڈیشن پر کام کا جائزہ لینا ہے، انہو ں نے کہا کہ سی پیک میں شامل تمام منصوبوں کی تیز ترین تکمیل یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی،چین حکومت پاکستان کی سی پیک منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم اور کئے جانے والے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک پر تیز رفتاری کیساتھ کام کی بنیادی وجہ پاکستانی قیادت باالخصوص وفاقی وزیراحسن اقبال کی منصوبے میں ذاتی دلچسپی اور فعال کردار ہے، بعد ازاں وزارت منصوبہ بندی میں پاکستان اور چینی حکام کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سیکرٹری پلاننگ شعیب احمد صدیقی اور چین کی جانب سے لی شیڈونگ نے کی، اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئےسیکرٹری پلاننگ شعیب احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ سی پیک نے علاقائی روابط اور کاروبار کے نئے مواقعوں کو فروغ دے کر پاکستان اور پورے خطے میں معاشی ترقی کیلئے راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر تیز ترپیش رفت یقینی بنانے کیلئے نہ صرف چھٹی جے سی سی میں لئے جانیوالے فیصلوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے بلکہ جائینٹ ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد کرکے ساتویں جے سی سی کا ایجنڈہ اور انعقاد کیلئے وقت کا تعین کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک پر سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کے مکمل اعتماد کا اظہارایک خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے کئے جانیوالے فیصلوں اور انکوعملی جامہ پہنانے کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک حسان داود بٹ نے منصوبے پر جاری پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔