News Image

جامشورو(پریس رلیز) وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین ہی نہی بلکہ پورے خطہ کے لئے گیم چیلنجر ہے - سی پیک کے ذریعہ پسماندہ علاقوں کو ترقی کے عمل سے جوڑا جائیگا اور ملک کی معیشت صنعتی انقلاب سے ہمکنار ہو گی - حکومت آئندہ تین سال میں ملک کے ہر ضلع میں جامعات و کیمپسز قائم کرے گی۔ آئندہ مالی بجٹ میں جامعہ سندھ کو بڑا مالی پیکج دیا جائے گا تاکہ ملک کی اس قدیم تعلیمی ادارے کو مزید ترقی دلائی جا سکے۔ جامعہ سندھ کی خصوصی گرانٹ کے لیے وزیراعظم پاکستان سے بھی درخواست کروں گا۔ قوم آخری بار گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کی تنگی بھگت رہی ہے، تاہم اگلے سال سے سسٹم میں 10 ہزار میگا واٹ مزید بجلی آجائے گی اور ملک میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ سی پیک پاکستان و چین سمیت پورے خطے کے لیے گیم چینجر ہے۔ بھارتی حکومت کو بھی آگے چل کر اس میں شامل ہونا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ سندھ جامشورو میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فوائد و اہمیت کے حوالے سے منعقد کردہ تین روزہ عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی میر ہزار خان بجارانی، شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت، نیشنل یونیورسٹی ملائشیا کے پروفیسر روی چندران مورتھی، ڈاکٹر حماد اللہ کاکیپوٹو و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ دور معلومات کی معیشت کا دور ہے، جن کے کور کمانڈرز جامعات کے وائس چانسلرز ہیں۔ آج کی جنگیں میدانوں میں نہیں بلکہ جامعات کے کلاس رومز اور لیبارٹریز میں لڑی جا رہی ہیں، جس کے لیے ہمیں تیار ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جن قوموں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں حقیقی تحقیق کو فروغ دلایا اور کام کیا، وہ کامیاب ہیں، جبکہ تحقیق کی دنیا میں کٹ پیسٹ کرنے والے محققین اور ان کی جامعات کو ناکامی ہی ملتی ہے۔ اس لیے نوجوان محققین کو محنت کے ذریعے تحقیق و جدید تحقیقی رجحانات پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر محققین کٹ پیسٹ پر انحصارکریں گے تو پھر ایک کیا دس سی پیک منصوبے بھی کام کے نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان میں سی پیک کے ذریعے ترقی و خوشحالی کے بڑی مواقع فراہم کیے ہیں، جس سے مستقبل قریب میں بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ تکالیف کے باوجود ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجود دور رفتار کا دور ہے، اس سے قبل بڑا چھوٹے کو کھا جاتا ہے، لیکن آج تیز، سست کو کھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءکے اقتصادی بحران کے بعد امریکا اور یورپی ممالک کی معیشتیں پست ہوگئیں اور وہ ملک ابھی تک اس بحران کے زد میں ہیں۔ انہوں نے کہا اس عالمی اقتصادی بحران نے چین کی معیشت کو بھی متاثر کیا، تاہم چینی قیادت نے ون بیلٹ ون روڈ کا ویژن متعارف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ اس ویژن کے ذریعے چین یورپ، ایشیا و افریقہ کے ساتھ کاروبار کرکے نئے سرے سے ترقی کی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے۔ سی پیک بھی نئے مواقع پیدا کرنے کا زبردست ذریعہ ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ان کی حکومت نے بھی 2014ءمیں ویژن 2025ءدیا، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے دستخط بھی کیے۔ ویژن 2025ءدراصل پاکستان کی ترقی کی ایجنڈا ہے۔ موجودہ حکومت کی کوششوں سے 2025ءتک پاکستان دنیا کے ٹاپ 25 معیشت والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں روڈ اور سڑکیں بہتر بنانے اور سڑکوں کا جال بچھانے کے پراجیکٹس پر کام شروع کرنے پر سیاسی ناقدین نے ہم پر تنقید کی اور منفی تبصرے کیے، لیکن ہم نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کراچی سے حیدرآباد موٹر وے تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملتان سے سکھر تک بھی موٹر وے پر کام شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں نہیں ہونگی تو اسکولز کیسے کام کریں گے، اسپتالوں میں مریضوں کو بروقت کیسے پہنچایا جائے گا۔ کاروبار کیسے ممکن ہو پائے گا، ایک شہر سے دوسرے شہر تک باآسانی کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ احسن اقبال نے ایک غیر ملکی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سروے کے مطابق پاکستان 2030ءتک بہترین معیشت کے حامل 25 ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ یہ موجودہ حکومت کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 70 سال تک غیروں کی جنگوں میں پھنسا کر رکھا گیا، جس کے نتیجے میں ملک کے حصے میں ڈرگز، بدامنی، غربت و لاقانونیت کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں ممالک کی فتح و ترقی کا منصوبہ ہے۔ ہم پاکستان کو خوشحال بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے توانائی کے کئی منصوبے شروع کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 10 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی سسٹم میں آجائے گی، جس سے اگلے سال سے کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ رواں موسم گرما عوام کے لیے لوڈشیڈنگ بردساشت کرنے کا آخری موسم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 2019ءمیں تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی، جو 400 سال تک کافی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، کوئلے سے بجلی پیدا ہونے کے بعد تھر کا پسماندہ علاقہ پاکستان کا انرجی کیپیٹل بن جائے گا اور یہاں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا ملک کے تمام پسماندہ علاقوں کو قومی دھارا میں شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 44 جوانوں کی شہادت کے عوض کوئٹہ سے گوادر سڑک کی تعمیر کا کام مکمل ہوا، جس کے بعد اب کوئٹہ سے گوادر تک دو دن کے بجائے 8 گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی کے مخالف اور پاکستان کے دشمنوں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کوئی فوجی منصوبہ نہیں بلکہ اقتصادی خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ اس کو تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والے بھارت کو آج وہاں کی تھنک ٹینک کے لوگ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ترقی کا بھارتی حکومت تعصب کو بالائے طاق رکھ کر منصوبے میں شامل ہو جائے۔ جلد ہی بھارت کو پتہ لگ جائے گا کہ سی پیک میں شمولیت کے بغیر اس کی ترقی کے لیے کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں نیا ریجنل بلاک بن رہا ہے، جس میں پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کے لیے روزگار کے مواقع جامعات کے ذریعے پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ءسے 2013ءتک ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے جامعات پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ 2013ءسے 2016ءتک ہمارے دور حکومت میں ایچ ای سی کے ذریعے تعلیم و تحقیق پر سوا 2 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ یہ موجودہ حکومت کا تعلیمی ویژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ ہاسٹل کے اخراجات پورے نہ کرنے کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جائے، اس لیے ہر ضلعے میں جامعات اور ان کے کیمپسز قائم کیے جائیں گے اور یہ پراجیکٹ تین سال میں مکمل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور مزید مقابلے کا دور ہے، اس لیے سندھ کے نوجوان اعلیٰ تعلیم محنت و لگن سے حاصل کریں اور آگے آئیں۔ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان سمیت سیاسی مخالفین اگلے انتخابات کا انتظار کریں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ پاکستان کے عوام کس کے ساتھ ہیں۔ پانامہ کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے، جو کہ غلط عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس بھی سپریم کورٹ میں لایا گیا، جس کی وجہ سے وہ ابھی تک متنازعہ بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل صوبائی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی میر ہزار خان بجارانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سندھ کے تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سندھ، صوبے کے عوام کے دلوں میں بستی ہے، اس کی ترقی کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں ہیں، انہیں دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا سی پیک منصوبہ اہم ہے، جس کے ذریعے سندھ سمیت ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا اور عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ ہمیں ان مواقع سے فائدو لینے کے لیے محنت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جامعہ سندھ کے مسائل کے حل کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سے بات کریں گے اور جامعہ کے مسائل حل کروائیں گے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت نے جامعہ سندھ کو درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ وفاقی حکومت ملک کی قدیم جامعہ کے مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا جامعہ میں ہاسٹل کی کمی سمیت کئی مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے وفاقی حکومت آئندہ مالی سال بجٹ میں خصوصی فنڈز کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلباءمطمئن رہیں گے تو جامعہ کو اطمینان ہوگا لیکن اگر طلباءکو پریشانی ہوئی تو وہ دشمنوں کے شکنجے میں آ سکتے ہیں، اس لیے انہیں تمام تعلیمی و تحقیقی سہولیات دے کر ان سے مطلوبہ نتائج برآمد کیے جا سکتے ہیں، جس کے لیے وفاق مدد کرے۔ کانفرنس کو نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا کے پروفیسر ڈاکٹر رویچندرن مورتھی، ڈاکٹر حماد اللہ کاکیپوٹو و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ 20 اپریل تک جاری رہنے والی عالمی کانفرنس میں ملائیشیا، تائیوان، چین، امریکا، کینیڈا و دیگر ممالک کے محققین شریک ہیں، جو سی پک اور اس کے خطے پر اثرات کے حوالے سے اپنے تحقیقی مقالے پیش کریں گے