News Image

Islamabad--Jan 19, 2017: Expressing their full support to China Pakistan Economic Corridor, federal and provincial governments have agreed to complete homework on new projects approved by 6th Joint Cooperation Committee (JCC) to ensure its speedy and timely implementation.

The decision was taken in a post 6th Joint Cooperation Committee meeting presided by Professor Ahsan Iqbal, Federal Minister for Planning, Development and Reform (PD&R) here at Planning Commission on Thursday.

The meeting was attended by Prime Minister Azad Jammu and Kashmir (AJK) Raja Farooq Haidar Khan, Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Pervaiz Khattak, Chief Minister Gilgit Baltistan Hafeez Ur Rehman and provincial ministers from Sindh and Punjab. Senior officials from federal and provincial government were also present in the meeting.

In a joint press conference, Professor Ahsan Iqbal, while highlighting decisions taken in the meeting, told that leadership has agreed to complete homework on new projects included in CPEC during 6th JCC in order to avoid any delay. He informed that Pakistani sides of the Joint Working Groups (JWGs) will meet soon to finalize new projects in energy, infrastructure and other sectors. On this occasion, he appreciated the role of provinces particularly Khyber Pakhtunkhwa on accelerating work on CPEC projects.

Ahsan Iqbal further told that participants agreed that along with projects in infrastructure and energy sector, procedure on Industrialization would be firmed up to ensure maximum benefits of CPEC. Federal Minister further urged on private entrepreneurs to come forward and fully utilize this opportunity to make Pakistan, a prosperous country.

“CPEC would not only prove a game changer for Pakistan but it would ensure connectivity of whole region. It would turn Pakistan into a trade hub if all the targets were achieved”, said Minister PD&R.

Ahsan Iqbal said that participation of senior provincial leadership at 6th JCC, held last month in Beijing was evidence of provincial support to this billion dollars project. “This participation helped in inclusion of new projects in CPEC portfolio, thus increasing its outlay up to 50 Billion dollars”.

Minister PD&R, further appreciating role of Pakistani officials, told that with the hard work and commitment, a number of projects have been completed before its stipulated time.

Ahsan Iqbal said that some elements are spreading misconceptions and hatching conspiracies against the harmony prevailing about CPEC in entire Pakistan. “Leadership has thwarted such plans by expressing their full support. All the reservations of federating units were addreseds and everyone is now jointly working for success of this project” he added.

Minister said that certain circles are engaged in negative propaganda against Pak-China industrial cooperation but these conspirators will have to see failure for sure. He informed that Chinese leadership wishes to speed up the process of industrialization in Pakistan, thus ready to shift industries here due to expensive labor in China.

“It is illogical to say that a large number of expensive Chinese workers would come to Pakistan and would occupy the job market here” said Minister, hoping that jobs for Pakistani labourers would be multiplied with completion of industrial cooperation under CPEC.

He said that with initiation of projects in different sectors, construction material industry has witnessed a boom and now thousands of Pakistani engineers and workers have got jobs in CPEC projects.

Ahsan Iqbal further reiterated his stance, saying that CPEC is the most transparent projects in Pakistan and questions on its transparency is a baseless practice. “All the projects in energy sector or operating in independent power producing mode (IPP) where tariff is determined by NEPRA, an independent body, so there is no room for questions” he remarked.

“Infrastructure projects have been initiated with concessional financing, thus it is awarded through a clear and set procedure” Ahsan Iqbal informed, adding that Chinese Administration gives names of three companies for each projects where a lowest bidder is decided by Pakistan.

Answering to a question, Ahsan Iqbal said that India is suffering of CPEC phobia which would surely lead to its isolation in this region. “How India would keep himself isolated of a project where everybody wished to join” Minister questioned.

Earlier, in the meeting all the provincial leaders have reiterated their full support to CPEC and assured to take immediate steps for implementation of new projects.

Besides, the leadership agreed to jointly work against the conspirators. On this occasion, Chief Minister KP said that all his reservations have been addressed; therefore, his government is busy to maximize benefits of CPEC. He informed that his government would organize a road show in the month of March at China to attract investment for agriculture, mining and tourism sector in Khyber Pakhtunkhwa.

اسلام آباد، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال کی صدارت میں ہونے والی چھٹی جے سی سی جائزہ اجلاس کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سی پیک میں شامل ہونے والے نئے منصوبوں پرفی الفور عملدرآمد یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔

اجلاس میں وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیط الرحمن ، سندھ اور پنجاب کے صوبائی وزراء کے علاوہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال  نےاجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران فیصلوں سے اگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کی چھٹی جے سی سی میں منظور کئے جانے والے نئے منصوبوں پر ہوم ورک جلد ازجلد مکمل کیا جائے گا تاکہ منصوبے التواء کا شکار نہ ہو،انہوں نے مزید کہا کہ پاک چین جائنٹ ورکنگ گروپس کے پاکستانی حکام جلد اپنے اجلاس بلا کر توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں کے نئے منصوبوں کو حتمی شکل دیں گے۔اس موقع پر انہوں نے صوبوں باالخصوص خیبر پختونخوا کی جانب سےسی پیک منصوبوں پر کام تیز کرنے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔

احسن اقبال نے مزید بتایا کہ انفراسٹرکچروتوانائی کے شعبوں میں کام کیساتھ ساتھ پاک چین صنعتی تعاون کے تحت صنعتکاری کےعمل کو تیزکرنے پر اتفاق کیا گیا، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کے نجی شعبے کو اس تعاون سےبھر پور فائدہ اٹھانے اور ملکی کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا بھر پور کردار یقینی بنانا ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک  کے تمام اہداف حاصل ہونے کی صورت میں یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے گیم چینجر اور رابطے کا ذریعہ ہوگا جس سے پاکستان دنیا کا ایک نیا تجارتی مرکز بن کرابھرے گا.

وفاقی وزیر احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ چھٹی جے سی سی میں اعلیٰ صوبائی قیادت نے شرکت کرکے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جس کی بدولت قومی سطح پر اتفاق رائے قائم ہوا اور سی پیک میں متعدد نئے منصوبے شامل کئےگئے ، سی پیک منصوبے پرپاکستان کے قومی اداروں کے پیشہ ورانہ کردار کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کی بھر پور شرکت سے کئی منصوبے وقت سے قبل مکمل ہورہے ہیں اور اقتصادی راہدی کی مالیت 50بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے

پروفیسر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بعض عناصر سی پیک پر پائی جانے والی یکجہتی کیخلاف سازشیں کرکے غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، مگر سی پیک پریکجہتی کا مظاہرہ کر کے قومی قیادت نے ان سازشوں کو ناکام بنایا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے حوالے سے تمام صوبوں کے تحفظات دور ہوگئے ہیں اور تمام وفاقی اکائیاں مل کر اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بعض حلقے پاک چین صنعتی تعاون کیخلاف منفی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں مگر انکی یہ سازش بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، چینی قیادت کی خواہش ہے کہ پاکستان میں صنعتکاری کا عمل تیز ہو، چین میں لیبر مہنگی ہونے کی وجہ سےیہاں صنعتیں منتقل کی جارہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ انہی صنعتوں میں پاکستانی کام کریں گے کیونکہ بڑی تعداد میں چین کی مہنگی لیبرکو یہاں کام کیلئے لانا غیر منطقی ہوگا۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک سے کنسٹرکشن میٹریل اندسٹری بہتر ہوئی ہے، مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی انجنئیرز اور ورکرز کو ملازمتیں ملی ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہدای کا یہ منصوبہ پاکستان کا شفاف ترین منصوبہ ہے، اس کی شفافیت پر سوالات اٹھانا بے بنیا د ہے، انہوں نے بتایا کہ توانائی شعبے میں سرمایہ کاری آئی پی پی موڈ کے تحت ہورہی ہے جس کے تحت چینی کمپنیاں پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کررہی ہیں لہذا غیر شفافیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ان منصوبوں کیلئے نیپرا ہی ٹیرف کا فیصلہ کرتا ہے جو ایک خود مختار ادارہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے چین نے رعائتی قرضہ دیا ہےلہذا یہ منصوبے چینی کمپنیوں کو  ایک شفاف عمل کے تحت ہی ایوارڈ کئے جاتے ہیں،انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے چین کی جانب سے دیے جانے والے تین ناموں میں سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے  وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت غیر ضروری طور پر سی پیک فوبیا میں مبتلا ہے، خطے کیلئے مفید منصوبے کی مخالفت سے انڈیا تنہائی کا شکار ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا سی پیک میں شمولیت کی خواہاں ہے، ہندوستان خود کو اس منصوبے سے کیسے الگ رکھ پائے گا۔

اس سے قبل چھٹی جے سی سی جائزہ اجلاس میں وزراء اعلیٰ اور صوبائی وزراء کی جانب سے سی پیک کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکیا گیا اور صوبوں کی جانب سے جے سی سی میں شامل کیے جانے والے نئے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، اجلاس میں قیادت نے سی پیک کیخلاف سازشوں میں مصروف عناصر کو مل کر ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا، اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ سی پیک کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے تمام تحفظات دور ہوگئے ہیں تاہم صوبے میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کیلئے وزیر اعظم کی زیر قیادت آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد مفید ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ انکی حکومت نہ صرف سی پیک منصوبوں سے استفادہ کرنے کیلئے مختلف کوششوں میں مصروف ہے بلکہ صوبے میں زراعت، معدنیات اور ٹورازم کے شعبےمیں سرمایہ لانے کیلئے چین میں مارچ کے مہینے میں روڈ شو کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔