News Image

اسلام آباد، 03 دسمبر، 2018 سینٹ اسپیشل کمیٹی آن سی پیک سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کا خطاب

سی پیک کی بنیادکو وسعت دینےاور رفتار تیز کرنے کی ضرورت تھی تاکہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جائے۔ چین کے ساتھ زراعت کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ ہوا۔ زرعی شعبے میں تعاون کے نتیجے میں چینی مارکیٹ تک رسائی، کارپوریٹ فارمنگ، پراڈکٹس مارکیٹنگ کو فروغ ملے گا سی پیک کے تحت سماجی شعبے کو ترقی دینے کیلئے الگ جائنٹ ورکنگ گروپ کا قیام عمل میں لایا گیا کم ترقی یافتہ علاقوں میں سماجی بہبود کے منصوبے اسی گروپ کے توسط سے عمل میں لائے جائیں گے۔ سی پیک کے تحت صنعتی تعاون کو فروع ملا۔ ایک جامعہ معاہدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں سی پیک میں پاک چین دو طرفہ تعاون کی بنیاد پرتیسرے ملک کو سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ سی پیک پاک چین دو طرفہ تعاون کا پلیٹ فارم ہے جس میں تیسری فریق کی شمولیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو صنعتی زون و انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ایم ایل ون منصوبے میں تیسری فریق کی سرمایہ کاری لانے کیلئے کوشش کی جارہی ہے۔ پیٹرولیم شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا امکان ہے۔ گوادر ماسٹر پلان کے تحت آئل سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ سی پیک کو پی ایس ڈی پی کا نعم البدل تصور نہ کیا جائے۔ مغربی روٹ کی تعمیر سی پیک کا حصہ ہے۔ 8ویں جے سی سی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اگلے مالی سال تک فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ صنعتی تعاون کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ رشکئی صنعتی زون پر جلد کام کا آغاز ہوجائے گا۔ صنعتی تعاون کے تحت چینی صنعتوں کی منتقلی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔