News Image

A consortium of top Pakistani business schools was formed to engage academic sector for applied research on various industrial and business opportunities related to CPEC and make this project, a real game changer. The decision was taken in a meeting at Planning Commission Islamabad, under the chairmanship of Minister for Planning, Development and Reform (PD&R) Professor Ahsan Iqbal. Deans of top Pakistani business schools attended the meeting. It was decided that the consortium will work for applied research to analyze the impact of Chinese investment in CPEC projects in the field of energy, infrastructure and industrial cooperation to ensure transformation of Pakistan into a new hub of trade for the whole world. While addressing on the occasion, Professor Ahsan Iqbal instructed that the consortium should focus on industry cooperation under CPEC and ensure promotion of business to business model and joint ventures. “Business schools should work for capacity building of provincial governments and chambers of commerce to ensure maximum benefits of CPEC” he added. He further instructed to develop linkages with top Chinese business schools and ensure exchanges of students and teachers. “We must engage Pakistani graduates of Chinese universities to get help of their foreign exposure” Minister added. To understand Chinese business practices, ethics and laws, Ahsan Iqbal advised to upgrade universities libraries not only by acquiring Chinese publications but by translating it to make it available for local consumption. “West, Middle East and Central Asian countries have already expressed to join CPEC so the consortium should propose a model to engage these nations for a true transformation of Pakistan into a geo economic hub” said Ahsan Iqbal. It was also proposed that Chinese language should be included as a compulsory subject in all undergraduate programs in Pakistan. Further it was decided that a monthly meeting of the established consortium should be held at each respective university in a sequential order as to get better understanding of Chinese economies, relocation, joint venture of Chinese industries, alignment of universities programs according to CPEC projects requirements and recommendation for policies on special economic zones to attract Chinese investors.

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے ٹاپ بزنس سکولز کے کنسورشئیم کاقیام عمل میں لایا گیا جو سی پیک کے تحت پاک چین تعاون کوکامیاب بنانے کیلئے نالج فاونڈیشن کا کردار ادا کرے گا، 
اس سلسلے میں پلاننگ کمیشن میں ہونے والے اجلاس میں پاکستا ن کے ٹاپ بزنس سکولز کے ڈینر نے شرکت کی، اجلا س کے دوران سی پیک کے تحت جاری انفراسٹرکچر، توانائی اور صنعتی تعاون کے شعبے میں جاری منصوبوں اور انکے اثرات کا جائزہ لیا گیا، اس  دوران فیصلہ کیا گیا کہ ٹاپ بزنس سکولز کا یہ کنسورشئیم توانائی ، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں چینی سرمایہ کاری اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئےعلمی تحقیق  و تربیت  کیلئے کوشش کرے گا تاکہ پاکستان کو دنیا کیلئے کاروبار کےنئے مرکز میں تبدیل کیا جائے۔
 اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ یہ کنسورشئیم پاک چین صنعتی تعاون  کے تحت  صنعتکاری اور اس سے متعلقہ شعبوں کا جائزہ لیں اوراس موقع کو انتہائی سودمند بنانے کیلئے بزنس  ٹو بزنس  ماڈل   اور مشترکہ کاروبار کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں، انہوں نے مزید کہا  کہ صنعتی تعاون سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کیلئے تعلیمی ادارے صوبوں اور چیمبر ز آف کامرس کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے کام کریں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہدایات جاری کی کہ بزنس سکولز کنسورشئیم چینی صنعتی ترقی، انکے تجارتی قوانین اور درآمدات و برآمدات کاجائزہ یقینی بنائےتاکہ اپنی معاشی بہتری کیلئے ان تجربات سے استفادہ کیا جاسکے،انہوں نے مزید کہا کہ چین کے اعلیٰ جامعات کیساتھ اساتذہ اور طلباء کے تبادلوں کا سلسلہ تیز کیا جائے اور ساتھ ہی وہاں   سےفارغ التحصیل اساتذہ و طلباء کے تجربات سے بھی استفادہ کرنا ہوگا
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس موقع پر کہا کہ معیشت و بزنس کے شعبے میں موجودچینی  انگریزی لٹریچر کےحصول کیساتھ ساتھ تراجم یقینی بنائی جائے  اور پاکستانی لائبرییریز کو اپ گریڈ کیا جائے،انکا مزید کہنا تھا کہ یورپ، روس، مڈل ایسٹ و وسطی ایشیائی ممالک  سی پیک میں شمولیت کا اظہار کرچکے ہیں لہذا یہ بزنس سکولزکنسورشئیم دنیا کے دیگر ممالک کیساتھ تعاون کیلئے راہیں متعین کریں۔احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں پاکستان خطے کے نئےتجارتی مرکز میں تبدیل ہوگا مگر اس عمل کو کامیاب بنانے کیلئے ہمیں تیزی کیساتھ اپنی صلاحیتیوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ کنسورشئیم ہر ماہ ایک مرتبہ ضرور ملے گا تاکہ مجوزہ  سفارشات پر تیزی کیساتھ عمل یقینی بنایا جائے۔